عوام کو ورغلا کرپھر بلوچستان میں نظر نہ آنے والوں کو بلوچستان کے لوگ بخوبی جانتے ہیں.. نواب ثناء اللہ خان زہری

Spread the love

خضدار:پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء سابق وزیراعلیٰ بلوچستان چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے خضدار میں بڑے شمولیتی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ جس طرح شہید سکندر زہری اور ان کے ساتھیوں کے لئے میرے دل میں درد پیار اور محبت ہے ویسا ہی درداور پیار میں بلوچستان کے عوام کے لئے رکھتا ہوں قربانیاں دیکر بھی بلوچستان کی سرزمین ہم نے نہیں چھوڑی اور اپنے عوام کے درمیان رہ کر مرنے اور جینے کو ترجیح دی، عوام کو ورغلا کرپھر بلوچستان میں نظر نہ آنے والوں کو بلوچستان کے لوگ بخوبی جانتے ہیں۔بلوچستان کو امن دیا یونیورسٹیز ہسپتالز دیئے ترقی اور خوشحالی دی، میری حکومت تیس سالوں کی خالی شدہ35ہزار سے زائد پوسٹس کو مشتہر کر کے ان پر بلوچستان کے نوجوانوں کو بھر تی کروانا چاہتی تھی تاہم نا عاقبت اندیش لوگ بلوچستان کے نوجوانوں کی امیدوں کا قتل کرکے میری حکومت کے خاتمہ کے لئے دوسری صف میں کھڑے ہوگئے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو بے روزگا اور محروم رکھا آج تک وہ پوسٹس بھرتی ہونے کے منتظر ہیں۔ 20سال قبل جب خضدار زہری کی نشست ایک تھی اور یہ نشست میں نے جیتی تو اس وقت یہاں ترقیاتی کام کروائے اس کے بعد سے آج تک خضدار میں ترقیاتی منصوبے تعطلی کا شکار ہیں حالانکہ مذہبی اور قوم پرست جماعت گزشتہ چار دھائیوں سے نیشنل اسمبلی کی یہ سیٹ جیت رہی ہیں تاہم ان کا ایک اینٹ تک یہاں نہیں لگی ہے۔میں نے اپنے دورِ حکومت میں خضدار کے عوام کو پانی کی سہولت دی تو جے یوآئی کا ایم پی اے شوخڑو جا کر میرے تشکیل کردہ پانی کے منصوبے کا افتتاح کردیاان کی عوامی نمائندگی کا پیمانہ اس حد تک پہنچا ہے کہ وہ میرے عوامی پروگرامز میں اپنی عزت تلا ش کررہاہے۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ جس طرح میں نے 2018سے پہلے کام کیا یا ابھی میرے آن گوئنگ منصوبے چل رہے ہیں 2023میں انشاء اللہ اس سے بڑھ کر خضدا ر سمیت پورے بلوچستان کے عوام کی ترقی ان کی خوشحالی اور ان کو ملازمتیں دینے کے لئے کام کرونگا وڈھ کے عوام کو محرومیوں سے نکالنے کے لئے وسیع پیمانے پر منصوبے تشکیل دونگا۔ خضدار کے عوام کی جانب سے پی پی پی جوائن کرکے ہمارے قافلے میں شامل ہونے والے سب سیاسی زعماء کو خوش آمد ید کہتا ہوں ہمارا قافلہ بڑھے گا اور بلوچستان کے طول و عرض میں جئے بھٹو کا نعرہ گونجے گاان خیالات کا اظہار انہوں نے خضدار کے معروف عوامی کاروباری شخصیت سوشل ایکٹوسٹ عبداللطیف شاہوانی کی شمولیت کے موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ عام میں ملک عبداللطیف شاہوانی میر فیصل زہری سراج احمد گزگی وڈیر ہ رشید احمد سمالانی وڈیرہ محمد حسن مٹھاخان عدنان باجوئی کی قیادت میں ہزاروں لوگوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ وسیع و عریض پنڈال میں بڑا جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ جلسہ کے موقع پر ملک عبداللطیف شاہوانی نے نواب ثناء اللہ خان زہری کو پگڑی پہنائی اوراپنے خطاب میں ان کی سخاوت لیڈر پر روشنی ڈالی اور تعریف کے پل باندھ۔ جلسہ عام سے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے ملک عبداللطیف شاہوانی کے علاوہ میر فیصل زہری سراج گزگی عد نان باجوٸ پیپلز پارٹی خضدار کے صدر سجاد زیب جنرل سیکریٹری ماما عبدالرحیم خدرانی سٹی صدر جمیل قادر زہری میر عبدالرحمان زہری عید محمد ایڈوکیٹ عبدالکبیر قمبر مینگل ڈاکٹر حضور بخش زہری چیف یاسر بلوچ رفیق سجاد زہری میر جمعہ خان شکرانی میر محمد اعظم ریکی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہاکہ میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں نے اپنے حلقے کو خوشحال بنا دیا ہے قومی شاہراہ سے دور ہونے کے باوجود کرخ مولہ زہری کے لوگوں کو آج زندگی کی سہولیات میسر ہیں مولہ چٹوک کا نام آج پورے پاکستان میں شہرت پاچکا ہے وہاں سڑکیں بنی ہیں چٹوک پہاڑی تک لوگ جاتے ہیں۔دوسری جانب آپ وڈھ کا جائزہ لیں دنیاء میں کوئی ایسی جگہ نہیں کہ جس کی پسماندگی کی وڈھ کی طرح مثال دے سکیں۔ وڈہ میں جانور اور انسان ایک ہی جگہ سے یعنی جوہڑکے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ وڈھ کے لوگ اب غلامی کی زنجیر توڑ کر باہر نکلیں آپ کے حق سے آپ کو محروم رکھا گیا ہے آپ اپنے حق حاصل کرو ہم سے لو حکمرانوں سے لو جو عوام کو ان کا حق نہیں دیتے ہیں ان کو ایسا مسترد کردیں کہ آئندہ ان کی نسلیں بھی یاد رکھیں۔میں افسوس کے ساتھ کہہ رہاہوں قومی شاہراہ کے او پرشہر سے چالیس کلومیٹر دو ر وڈھ آج بے بسی کی زندہ تصویر بنی ہوئی ہے لوگ گیلن اٹھا کر پانی کے لئے احتجاج کررہے ہیں،صحت تعلیم روزگار اپنی جگہ جب وہاں لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو لوگ کیونکر اس غلامی سے نجات حاصل نہیں کرتے ہیں عوام اس غلامی سے باہر آئیں اور اپنے مستقبل کو بنائیں۔سابق وزیراعلیٰ بلوچستا ن نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہاکہ میں یہ بات بڑے دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں ایک ترقی پسندسردار اور سیاستدان ہوں میں نے بلوچستان اسمبلی میں ویسے ٹائم پاس نہیں کیا عوام کے لئے بہت کچھ کیا ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا آج خضدار میں یونیورسٹی قائم ہے اس سے نسل درنسل نوجوان پڑھیں گے فائدہ لیں گے۔ میں لفاظی بولنے والا لیڈر نہیں ہوں میں نے دو سالہ دورِ حکومت میں عملی طور پر کام کرکے دکھایا 35ہزار سے زائد پوسٹس مشتہر کیا لیکن ان پوسٹس اور نوجوانوں کے درمیان بھی متعصب سیاستدان حائل رکاوٹ بن گئے جس میں مذہبی اور قوم پرست جماعت شامل تھیں۔ میں نے شہید سکندر زہری کی صورت میں ایک الگ ضلع دیا جس کا فائدہ پورے شہید سکندر ضلع کے عوام کو مل رہاہے۔ادھر خضدار کو پانی کی سہولت دی لیکن اس کا افتتاح ایک اور ایم پی اے نے کیا اور اپنی کارکردگی میرے منصوبوں میں ظاہر کرنے لگی۔ پی پی پی کے رہنماء نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہاکہ میرے والد سردار دوداخان زہری نے اپنی زمینیں بیچ کر یہاں کے نام نہاد سرداروں کو کھلایا پلایا لیکن وہ بھی احسان فراموش نکلے۔ میرے والد نے عوام کی خاطر جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیئے۔ آج میں بھی عوام کے لئے جانی قربانی دیکر آپ کے درمیان ہوں جنہوں نے نواب اکبربگٹی کو دھوکا دیا یا جنہوں نے عوام کو ورغلاوہ سالوں تک بلوچستان کی سرزمین میں نظر نہیں آئے۔آج اگر بلوچستان میں امن ہے تو میری حکومت کی وجہ سے امن ہے جس میں قوم پرست جماعت کا سربراہ دندناتے پھر رہاہے اور سیاست کررہاہے اور ایک بار پھر عوام کو ورغلا رہاہے۔میں جھالاوان کے عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ دیں میں آپ کے حقوق لیکر آپ کو دونگا۔ان سیاستدانوں کی طرح دوغلی پالیسی اور نفرت و تعصب کا دشمن ہوں۔ میں آپ پر یہ بات بھی واضح کرنا چاہتاہوں کہ جو میرے دل میں ہے وہی زبان پر ہے جو محبت میں اپنے فرزند وں کے لئے رکھتا ہوں وہی محبت میرے دل میں میرے لوگوں کے لئے ہے۔ عوام تباہی اور بربادی برپا کرنے والے نام نہاد لیڈروں سے دور رہیں اور عوام دوست لیڈ ر کا چناؤکریں یہ آپ کے اور بلوچستان کے مفاد میں ہے میں وہی 35ہزار پوسٹس واپس مشتہر کرکے نوجوانوں کو دونگا یہ میرا مشن بھی ہے اور عزم بھی ہے۔ اس موقع پر سردار ذوالفقار ہارونی میر راوت خان زہری منیراحمد قمبرانی بشیراحمد جتک میر ذاکر علی باجوئی میر فیصل رحیم زہری میر عبدالوہاب زہری محمد اسماعیل مینگل عطااللہ موسیانی بابل زہری زاھد زہری میر ثناء اللہ مینگل ارباب ارشد مینگل سمیع رؤف لانگوعبیداللہ قمبرانی سمیت دیگر موجود تھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے