اسپتال میں کئی ادوایات نہیں ملتی اور باہر بلیک میں بکتی ہیں، صدر احمد عباس

Spread the love

کوئٹہ ۔۔تفصیلات کے مطابق ینگ ڈاکٹرز بلوچستان کے صد ر احمد عباس نے ساتھیوں کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرس کرتے ہو ئے کہا کہ بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال میں ادوایات کچرے میں ملی تھیں ڈریپس سیٹس اور سرنج وغیرہ ڈسٹرائے کی جاتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہاں استعمال کی گئی اشیاء کباڑی میں فروخت کی جاتی ہیں استعمال شدہ چیزیں واپس ری نیو ہو کر استعمال میں آجاتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ ایم ایس اسپتال کو کہا کہ استعمال شدہ چیزیں واپس آرہی ہیں، میں خود سرجن ہوں آپریشن تھیٹر میں سرنج تک مریض سے منگواتے ہیں محکمہ صحت کی طرف سے نااہلی ہے یہاں ادوایات نہیں اربوں روپے کابجٹ ہےلیکن سرنج تک نہیں ملتی ایچ آئی وی کے مریض ڈبل ہوگئے ہیں احمد عباس نے کہا کہ سرنج استمال کے بعد واپس استعمال کے قابل بنا کر لائی جا رہی ہے ہماری اپیل ہے اہل اقتدار سے خدارا نوٹس لیں میڈیسن وارڈ میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی بڑی تعداد آرہی ہے جو شخص یہاں سے یہ چیزیں لیجاتا ہے اُسے کوئی نہیں جانتا حکومت نوٹس لے یہ انسانی زندگیوں کو سنگین خطرات کا معاملہ ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ جب بی ایم سی جیسے بڑے اسپتال میں یہ سب ہو رہا ہے تو ضلعی سطح پر کیا حال ہوگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے