کامیڈی کے بادشاہ عمر شریف انتقال کر گئے عمر شریف کی زندگی پر ایک نظر

Spread the love

کراچی ۔تفصیلات کے مطابق کروڑوں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے والا لیجنڈ عمر شریف جرمنی کے اسپتال میں دوران علا ج انتقال کر گئے ہیں انہیں گزشتہ دنوں علاج کی غرض سے امریکہ لے جایا جارہا تھا کہ راستے میں طبیعت کی خرابی کے باعث انہین جرمنی کے ایک اسپتال میں داخل کرنا پڑا عمر شریف کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں 19 اپریل 1955پیدا ہو ئے انھوں نے 14 برس کی عمر میں اسٹیج ڈراموں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا

جس کے بعد ان کی کامیا بی کا سفر شروع ہوا مر شریف نے تھیٹر، اسٹیج، فلم اور ٹی وی میں اپنی اداکار کے جوہر دکھائے ان کا اصل نام محمد عمر تھا کریئر کی ابتدا میں عمرشریف نے اپنا نام عمر ظریف بھی رکھا لیکن 70 کی دہائی میں مصری اداکار عمر شریف کی فلم ’لارنس آف عریبیا‘ کی نمائش ہوئی تو جواں سال محمد عمر، عمر شریف بن گئے

جو ان پہچان بن گئی عمر شریف نے 1980ء میں پہلی بار آڈیو کیسٹ سے اپنے ڈرامے ریلیز کیا مر شریف نے 70 سے زائد ڈراموں کے سکرپٹ لکھے انہوں نے اداکاری اور میزبانی کے ساتھ ساتھ متعدد پروگراموں میں بطور جج بھی شرکت کی 2006 میں عمر شریف ویلفیئر ٹرسٹ قائم کی جس کے تحت ماں کے نام سے اسپتال قائم کیا جہاں مریضوں کو علاج کی مفت سہولیات فراہم کی جاتی ہیں عمر شریف نے سال 1992 میں فلم ’مسٹر۔420‘ میں بہترین اداکاری اور ہدایت کاری کرنے پر نیشنل ایوارڈ حاصل کیا کیا گیا انھوں نے اپنی زندگی میں دس نگار ایوارڈ اپنے نام کیےجبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیاعمر شریف کے مشہو ر ڈراموں میں کرا قسطوں پر ، بڈھا گھر پر ہے،میری بھی تو عید کرا دے شامل ہیں نجی ٹی کے مطابق ان کی میت منگل تک پاکستان لائی جائے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے