آج پہلے سے زیادہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ منسلک ہورہے ہیں..جام کمال خان

Spread the love

خضدار:لوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی کی منگل کے روز خضدار آمد۔ اس موقع پر پارٹی کے ورکرز وہ اور بی اے پی خضدار کے صدر آغا شکیل احمد خضدار سردار عزیز محمد عمرانی میر محمد آصف جمالدینی میر فیاض زنگیجواحمد گنگو سردار بلند خان غلامانی سردار عتیق ساجدی و دیگر نے خطاب کیا۔ بی اے پی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی نے خضدار میں پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمارے چار ایم این اے ہیں ہم نے حکومت میں شامل ہوتے وقت یہ بات حکومتی پارٹی کے سربراہوں سے کی تھی کہ بلوچستان میں ایک تبدیلی لازم ہے اور اس تبدیلی میں آپ نے ہمارے ساتھ شامل ہونا ہے اس بات کا وعدہ شہباز شریف نے بھی کیا مولانا فضل الرحمن نے بھی کیا اور آصف علی زرداری نے بھی ہمارے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا۔تاہم سردار اختر مینگل سے یہ بات میں نے نہیں کی اور نہ ہی میں نے بلوچستان حکومت تبدیلی کاآفر انہیں دیا۔جب ہم نے تحریک عدم اعتماد لایا تو ساتھیوں نے پوچھا کہ حکومتی جماعتوں نے اگر آپ کے ساتھ وعدہ کیا ہے تو کوئی تحریری معاہدہ ہے میں نے کہاکہ اعتبار اور اعتماد بھی کوئی چیزہوتی ہے اتنے بڑے سیاسی سربراہان ہیں ان کی زبان ہی اس وعدے کے لئے کافی ہے تاہم انہوں نے وعدہ وفاء نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ سردار اخترمینگل نے کہاتھاکہ عبدالقدوس بزنجو کو لانے کے گناہ میں ہم شریک نہیں تھے جب آپ اس گناہ میں شریک نہیں تھے تو ہم نے عدم اعتماد لایا تھا آپ کو اس گناہ کو مٹانے کا بہترین موقع تھا لیکن انہوں نے بلوچستان کے عوام کے لئے جو فیصلہ کرنا تھاوہ نہیں کرسکے ان پرچند ٹرانسفر اور چند ٹھیکے غالب آگئے انہوں نے عدم اعتماد کو نہ صرف فیل کرایا بلکہ جب ہم وہاں موجود تھے تو انہوں نے کہاکہ کورم پورا نہیں اس نشست کو ختم کیا جائے ان لوگوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کے بارے میں کہاکہ یہ لیبارٹری میں بنی پارٹی ہے چند لوگوں کی پارٹی ہے تاہم ہمیں حکومت چھوڑے کئی مہینے ہوچکے ہیں لوگ آج پہلے سے زیادہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ساتھ منسلک ہورہے ہیں کونسلر لیول کی نشستیں وہی جماعتیں جیت جاتی ہے کہ جن کا گراؤنڈ لیول پر ایک اچھی پوزیشن ہو۔سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھاکہ ہماری پارٹی میں بھی منافق لوگ شامل تھے جو پہلے ہی دن سے اچھے کاموں کو بگاڑ رہے تھے تاہم ان کا چہر آج کھل کر سامنے آگیا ہے ان کا مقصد یہی تھا کہ بی اے پی فیل کیسے ہو عوام کی ترقی کیسے رکے آج وہی لوگ بلوچستان کی حکومت میں ہیں اور کسی بھی طرح نہیں لگ رہا کہ یہ بلوچستان عوامی پارٹی ہے بلکہ یوں محسوس ہورہاہے کہ بلوچستا نیشنل پارٹی مینگل کی حکومت ہے وہی بلوچستان کو چلارہی ہے وہی بلوچستان کے فیصلے کررہی ہے اور اس بات کابھی اظہار کررہے ہیں کہ بلوچستان کی حکومت سب سے نالائق حکومت ہے اور یہاں کرپشن سب سے زیادہ ہے بلوچستان کی ساحل و وسائل کی بات کرنے والا آج اپنا مقصد بھلا بیٹھا ہے کبھی ساحل و وسائل پر بات کی ہو یا ریکوڈک کی بات کی ہو ثناء بلوچ بلوچستان کے مسائل پر بڑے بڑے لیکچر دیا کرتے تھے اب اس نے بھی بلوچستان اسمبلی میں جانا چھوڑ دیا اب اس کا ساراوقت وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں گزرتا ہے ان کا ساراوقت وزیراعلیٰ کے جہاز اور گاڑی میں سفر کرتے ہوئے گزرتا ہے ثناء بلوچ اسلام آباد بھی وزیراعلیٰ کے ساتھ جاتے ہیں اور مسقط بھی وزیراعلیٰ ہی کے ساتھ جاتے ہیں۔پھر سردار اختر مینگل کہتے ہیں کہ ہم اس گناہ میں شریک نہیں ہیں معلوم نہیں یہ کیسا گناہ ہے اس گناہ کی لذت ایسی ہے کہ اس کو حاصل بھی کرنا ہے اور ساتھ ساتھ اس کو گناہ بھی کہنا ہے۔جام کمال خان عالیانی کا کہنا ہے کہ دوسری جماعتوں میں شخصیات اور وراثت چلتی ہے جب کہ بلوچستان عوامی پارٹی میں ایسا نہیں ہے اس میں ورکر کا اختیار ہے وہی پارٹی کا والی وارث ہے ان کا کہنا تھاکہ وہ کام دوسری جماعتیں نہیں کرسکے وہ ہم کررہے ہیں۔ہم نے جس طرح کی حکومت چلائی اس طرح کی حکومت کسی اور نے نہیں چلائی ہوگی ہمیں سخت اپوزیشن کا سامنا تھا اگر ہمارے درمیان شیطان طرز کے لوگ نہیں ہوتے تو ہماری حکومت ترقی کے رفتار کو مذید زیادہ چلاتی ہم نے دو سال میں جو کام کیا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پورے بلوچستان میں ہماری جماعت بلدیاتی الیکشن میں دوسری پوزیشن پر آئی ہے بلوچستان عوامی پارٹی کا کوئی قلعہ ہے تووہ خضدار ہے۔جام کمال خان کا کہنا تھاکہ عمران خان کی جانب سے خضدار کو ملنے والے دس ارب بھی کافی مشہورہوئے تھے ایک بار اسلام آباد میں سردار اختر مینگل نے میرے ساتھ پریس کانفرنس کی کہ وہ گلی اور نالی کی سیاست نہیں کرتے ہیں ہمیں لوگوں نے ایک مقصد کے لئے ووٹ دیا ہے میں نے کہاکہ آپ کا اچھا مقصد ہے اس کے لئے محنت کریں لیکن ہم بلوچستان کے عوام کی خدمت کریں گے اور ہم اپنی محنت یہاں کریں گے لیکن دو سال میں وہ اپنی پالیس بھول ہوگئی آج آپ کی محنت اسی پیکج پر ہوتی ہے آج آپ نے وفاق میں وزارتیں لی ہیں آج آپ بلوچستان کے وزارتوں کو چلا رہے ہیں شاید دس سال پہلے ہم لوگ بلوچستان کے عوام کو گمراہ کرتے تھے آج سوشل میڈیا کے ذریعے ہر بات عوام تک ہر گھر تک پہنچ جاتی ہے آج کچھ بھی نہیں چھپ سکتا ہے۔جب میں نے سریاب کو پیکج دیا توان سے میں نے پوچھا کہ سریاب روڈ کو توسیع دے رہے ہیں تو ان کے ایم پی ایز نے کہاکہ آپ یہ روڈ نہیں بناؤ یعنی بلوچستان عوامی پارٹی کو کریڈٹ جانے کی وجہ سے انہوں نے عوام کی ترقی پربھی رضامندنہیں ہوئے آمادہ نہیں ہوئے۔ کیا پندرہ بیس سال کی تقریریں انہوں نے انہی دو دو وزارتیں حاصل کرنے کے لئے کی تھی۔ جام کمال خان نے کہاکہ ان کے اصل چہرے سے ہم واقف ہیں یہ لوگ شام کو ملاقات کرنے کے لئے جاتے ہیں اور ہم دن کوعوام کے سامنے ملاقات کرتے ہیں اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ ایک کرنل صاحب بلوچستان سے ٹرانسفر ہو کر جارہا تھا تو ان کی ہم نے دعوت کی وہاں بی این پی کے لوگ اور ملا لوگ بھی بیٹھے تھے اس کرنل نے کھل کر بات کی ہم ان سے واقف ہیں ہم ان سے یہاں بھی ملے ہیں اور ہم باہر بھی ملے ان سے ملے ہیں ان لوگوں کا یہ چہرہ ہے عوام کو کچھ اور دکھا تے ہیں اور عمل کچھ اور مقصد پر کرتے ہیں۔جام کمال خان نے ڈپٹی کمشنر خضدار کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ اپنی ملازمت کریں اور کسی طرفداری سے باز آجائیں اس حوالے سے ہم پورے بلوچستان کو بھی بند کرسکتے ہیں آپ کے لئے وقت ہے کہ حالات کو پہلے ہی درست کریں۔اس تقریب میں عبدالقیوم ساسولی سکند رہنینا، سیف اللہ ملازئی محمد یونس گنگو ریحان زرکزئی نواز بلوچ ۔ سمیت دیگر ورکرز موجود تھے*

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے