پاکستان کے مختلف علاقوں میں اڑن طشتریاں دیکھنے کے واقعات

Spread the love

پاکستان کے مختلف علاقوں میں اڑن طشتریاں دیکھنے کے واقعات رپورٹ ہوئے… دیکھنے والوں نے آسمان پہ کچھ پُراسرار نقطوں کو دیکھا جو ریل گاڑی کے ڈبوں کی طرح ایک ہی قطار میں چلے جارہے تھے… کچھ کے نزدیک یہ خلائی مخلوق تھی جو پاکستان کا خفیہ دورہ کرنے پہنچی تو کچھ نے اس کو جاسوس ڈرون طیارے سمجھا…. لیکن جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ امریکی پرائیویٹ خلائی ایجنسی SpaceX نے 60 سیٹلائیٹس پہ مشتمل ایک گروپ لانچ کیا ہے جسے Starlink کہا جارہا ہے… یہ سیٹلائٹس زمین سے 550 کلومیٹر کی بلندی پہ رہتے ہوئے زمین کے باسیوں کو 5 جی انٹرنیٹ سروسز فراہم کریں گیں… اس پراجیکٹ کے تحت 2027ء تک 12 ہزار سیٹلائیٹس کو لانچ کیا جائے گا… جن میں سے یہ 60 سیٹلائیٹس پہلی کھیپ ہیں… ان 12 ہزار سیٹلائیٹس کا سائز کمپیوٹر ٹیبل جتنا ہوگا، جو تین تہوں کی شکل میں زمین کے گرد چکر کاٹتے ہوئے ایک دوسرے سے connected رہیں گیں اور زمین کے گرد مضبوط سگنلز کا جال بنا دیں گی پہلی تہہ زمین سے 350 کلومیٹر ،دوسری تہہ 550 کلومیٹر جبکہ تیسری تہہ 1100 کلومیٹر اونچائی پہ ہوگی… اس پراجیکٹ کے ذریعے دور دراز سمندروں اور صحراؤں میں انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، یہ وہ علاقے ہیں جہاں آجکل انٹرنیٹ موجود نہی آپ ان 60 سیٹلائیٹس کو نقطوں کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں اور اندازہ لگا سکتے ہیں کہ 12 ہزار سیٹلائیٹس کے باعث آسمانی چادر پہ کیا نظارہ دیکھنے کو مل سکتا ہے… بہرحال یہ پراجیکٹ انسانی مستقبل پہ مثبت اثرات چھوڑے گا یا منفی، یہ یقیناً وقت بتائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے